امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دوسرے دورِ حکومت میں معیشت سے متعلق کئی دعوے سرکاری اعداد و شمار کے مطابق درست ثابت نہیں ہوئے۔ دوسری مدت کا ایک سال مکمل ہونے پر ٹرمپ نے افراطِ زر کے خاتمے، گیس کی کم قیمتوں اور روزگار میں بہتری کا دعویٰ کیا، تاہم عالمی میڈیا رپورٹس نے ان بیانات کی نفی کی ہے۔
امریکی محکمہ محنت کے مطابق ملک میں افراطِ زر اب بھی 2.7 فیصد ہے، جبکہ گیس کی اوسط قیمت ٹرمپ کے دعوے سے کہیں زیادہ ہے۔ ادویات کی قیمتوں میں غیر معمولی کمی اور ٹیرف سے متعلق ان کے بیانات کو بھی مبالغہ قرار دیا گیا ہے۔
ماہرین اور معاشی رپورٹس کا کہنا ہے کہ سرکاری ملازمتوں میں بڑی کمی کے باوجود نجی شعبے میں روزگار کے مواقع محدود رہے، جبکہ کار فیکٹریوں سے متعلق دعوے بھی حقائق سے مطابقت نہیں رکھتے۔ مجموعی طور پر ماہرین نے ٹرمپ کے معاشی بیانات کو زمینی حقائق کے برعکس قرار دیا ہے۔
ٹرمپ کے معاشی بیانات پر سوالات، سرکاری اعداد و شمار نے تردید کر دی
