امریکی میڈیا کے مطابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایران کے خلاف محدود مگر مؤثر کارروائی کے حامی ہیں تاکہ معاملہ طویل جنگ میں نہ بدلے۔ ادھر اسرائیل میں ممکنہ خطرات کے پیش نظر فوج کو ہائی الرٹ کر دیا گیا ہے اور کئی علاقوں میں بم شیلٹرز کھول دیے گئے ہیں۔
اسرائیلی ذرائع کا کہنا ہے کہ امریکا کسی بھی کارروائی سے پہلے اطلاع دے سکتا ہے۔ اسی دوران امریکا اور برطانیہ نے قطر میں واقع اپنے فوجی اڈوں سے کچھ عملہ نکالنے کا فیصلہ کیا ہے۔
دوسری طرف ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ ملک میں حالات قابو میں ہیں اور ایران دباؤ یا بمباری سے اپنے مؤقف سے پیچھے نہیں ہٹے گا۔ صدر ٹرمپ نے بھی یہ عندیہ دیا ہے کہ ایران میں بڑے پیمانے پر پھانسیوں کی اطلاعات درست نہیں۔
امریکا اور ایران میں کشیدگی، فوجی تیاریوں اور بیانات میں تیزی
