چین نے تبت کے علاقے میں دنیا کے سب سے بڑے ہائیڈرو پاور ڈیم کی تعمیر شروع کر دی ہے، جو سالانہ 300 ارب کلو واٹ بجلی پیدا کرے گا۔ یہ منصوبہ توانائی، روزگار اور معاشی ترقی کا باعث بنے گا، تاہم بھارت نے اس پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔ بھارت کا کہنا ہے کہ یہ ڈیم دریائے برہم پترا کے پانی کے بہاؤ کو متاثر کر سکتا ہے اور سیلاب یا خشک سالی کا خطرہ بڑھا سکتا ہے۔
چینی حکومت کا مؤقف ہے کہ یہ منصوبہ سائنسی بنیادوں پر ہے اور کسی بھی ہمسایہ ملک کے آبی حقوق یا ماحولیاتی نظام کو نقصان نہیں پہنچائے گا۔
چین کا دنیا کا سب سے بڑا ڈیم بنانے کا آغاز، بھارت نے خدشات ظاہر کر دیے
