ماضی میں سعودی عرب اور دیگر عرب ممالک میں سرخ رنگ کی پرانی لاری نہ صرف سفر کا اہم ذریعہ تھی بلکہ اب ثقافتی ورثے کی علامت بن چکی ہے۔ 1940 سے 1970 کی دہائی تک یہ امریکی ساختہ گاڑیاں، جیسے فورڈ ٹرک، دور دراز علاقوں کو شہروں سے جوڑنے میں استعمال ہوتی تھیں۔
مورخین کے مطابق لوگ ان لاریوں پر کئی دن کا سفر طے کرتے تھے، جنہوں نے سفر کو پہلے سے زیادہ آسان اور آرام دہ بنایا۔ یہ لاری صرف مسافر ہی نہیں، بلکہ تجارتی سامان جیسے کھجوریں، مصالحے، کپڑے اور مویشی بھی بازاروں تک پہنچاتی تھیں، یوں دیہی معیشت کو فروغ ملا۔
مقامی باشندے اب بھی ان لاریوں کی یادوں کو دل سے لگائے ہوئے ہیں، جن کی لکڑی کی فرش، کپڑے کی چھت اور سرخ رنگ کی خوبصورتی آج بھی ان کے ذہنوں میں نقش ہے۔ بعض ڈرائیور بغیر کرائے کے بھی لوگوں کو منزل تک پہنچاتے، جو اس دور کی سادگی اور باہمی ہمدردی کا مظہر تھا۔
