واپڈا اس وقت شدید انتظامی بحران کا سامنا کر رہا ہے کیونکہ ادارے کے اہم عہدے گزشتہ نو ماہ سے خالی ہیں۔ صرف ایک مستقل رکن مالیات نوید اصغر چوہدری موجود ہیں، جنہیں عبوری طور پر چیئرمین کا عہدہ بھی سونپ دیا گیا ہے۔ دیگر دو اہم پوزیشنز – رکن پانی اور رکن بجلی – نگرانی کی بنیاد پر دو سینئر افسران کو دی گئی ہیں، جو کوئی مالی یا انتظامی فیصلہ کرنے کے مجاز نہیں۔
دیامر بھاشا، داسو اور مہمند ڈیم جیسے میگا منصوبے سست روی کا شکار ہیں، جبکہ ادارہ کوئورم مکمل نہ ہونے کے باعث قانونی اور آڈٹ مسائل میں الجھ سکتا ہے۔
ذرائع کے مطابق تقرریوں کی منظوری کے لیے اکتوبر 2024 میں سمری بھیجی گئی تھی، لیکن وزارت اور وزیراعظم آفس کی تاخیر کے باعث کوئی پیش رفت نہ ہو سکی۔ وزارت آبی وسائل اور وزیراعظم آفس ایک دوسرے پر تاخیر کا الزام لگا رہے ہیں، جبکہ ادارے کی کارکردگی مسلسل متاثر ہو رہی ہے۔
