
برطانیہ میں مقیم پاکستانی کاروباری خاتون اور سماجی کارکن نینا خان مشرقی کو ان کی خواتین کے حقوق
انسانی خدمات، سماجی فلاح و بہبود اور کمیونٹی ڈویلپمنٹ کے شعبوں میں نمایاں خدمات کے اعتراف میں “انٹرنیشنل ویمنز لیڈرشپ ایکسیلنس ایوارڈ” سے نوازا گیا ہے۔ یہ اعزاز انہیں “برٹش ایشینز ہُو پاور 100 ایوارڈز 2026” کی تقریب میں دیا گیا۔
یہ تقریب سامارا ایونٹس یوکے کے زیر اہتمام لندن کے مشہور فائیو اسٹار دی سیوائے ہوٹل میں منعقد ہوئی، جس میں مختلف شعبوں میں نمایاں خدمات انجام دینے والی شخصیات کو تسلیم کیا گیا۔
نینا خان مشرقی طویل عرصے سے کمزور اور محروم طبقات کی مدد، خواتین کو معاشی و سماجی طور پر بااختیار بنانے اور دنیا بھر میں فلاحی منصوبوں میں فعال کردار ادا کر رہی ہیں۔ ان کا کام کاروبار، انسانی ہمدردی، سماجی ترقی اور خواتین کی بہتری کے مختلف شعبوں پر محیط ہے۔
انہوں نے متعدد بین الاقوامی اداروں، این جی اوز اور تنظیموں میں اہم ذمہ داریاں بھی نبھائی ہیں اور مختلف عالمی سطح کے ایونٹس کے انعقاد میں بھی کردار ادا کیا ہے۔
ایوارڈ وصول کرنے کے بعد اپنے خطاب میں انہوں نے اس کامیابی کو اپنی زندگی کا ایک یادگار لمحہ قرار دیا اور اپنی فیملی خصوصاً شوہر، بچوں اور والدہ کے تعاون کو اپنی کامیابی کی بڑی وجہ بتایا۔ انہوں نے یہ ایوارڈ فلسطین کے نام وقف کیا۔
انہوں نے بتایا کہ دو سال قبل انہوں نے برطانیہ میں 800 مہمانوں پر مشتمل ایک کامیاب فنڈ ریزنگ ڈنر کا انعقاد کیا تھا، جس کے ذریعے انہوں نے غزہ اور فلسطین کے لیے ایک لاکھ پاؤنڈ سے زائد رقم جمع کی۔ یہ رقم “Limbs4Gaza” پروجیکٹ کے لیے استعمال کی گئی، جس کا مقصد جنگ میں معذور ہونے والے بچوں کی مدد کرنا تھا۔
انہوں نے اپنے دادا اور معروف مفکر علامہ مشرقی کو بھی خراج عقیدت پیش کیا اور کہا کہ ان کی انسانیت کی خدمت کا جذبہ ان کے لیے ہمیشہ مشعل راہ رہا ہے۔
