ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی میں کمی کے لیے ڈیڈ لائن ختم ہونے سے چند گھنٹے قبل تیز رفتار سفارتی سرگرمیاں دیکھنے میں آئیں۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق ایران کے مذاکرات سے پیچھے ہٹنے کے اشارے پر ہنگامی رابطوں کا آغاز ہوا، جس میں پاکستان، قطر، مصر اور ترکیہ نے اہم کردار ادا کیا۔
چین نے بھی مداخلت کرتے ہوئے ایران کو آبنائے ہرمز کھولنے اور جنگ بندی پر آمادہ کرنے میں کلیدی کردار ادا کیا، جبکہ سیز فائر کی شرائط پر آخری وقت میں بات چیت کی گئی۔
رپورٹس کے مطابق پاکستانی قیادت نے بھی اہم رابطے کیے، جبکہ فیلڈ مارشل عاصم منیر نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو صورتحال سے آگاہ کیا، جس کے بعد جنگ بندی پر پیش رفت ممکن ہوئی۔
