طائف میں گلاب کی کاشت کے موسم میں ’التعشیر‘ ایک منفرد مقامی روایت کے طور پر زندہ ہے۔ ایس پی اے کے مطابق یہ رسم نہ صرف زرعی سرگرمیوں کا حصہ ہے بلکہ علاقے کی ثقافتی شناخت کی بھی نمائندگی کرتی ہے۔
قدیم روایت ’التعشیر‘ میں، فصل کی کٹائی کے دوران، مقامی بندوق ’المقمع‘ کے ساتھ گلاب چنتے وقت اجتماعی طور پر گیت گائے جاتے ہیں اور خوشی کا اظہار کیا جاتا ہے، جس کا مقصد کسانوں کے درمیان یکجہتی اور حوصلہ افزائی ہے۔
غازی النمری، جو کہ مقامی کاشتکار ہیں، کا کہنا ہے کہ ’التعشیر‘ پیشے کی شناخت کا حصہ بن چکی ہے اور آج بھی اپنی اصل شکل میں موجود ہے۔ اس روایت میں بندوق میں مقامی باردو بھر کر اسے زمین کی جانب اچھال کر فائر کیا جاتا ہے، جس میں رقص اور مہارت کا خاص رنگ شامل ہے۔
غازی النمری نے مزید کہا کہ یہ ثقافتی ورثہ نہ صرف مقامی شناخت کو مضبوط بناتا ہے بلکہ زرعی سیاحت کو بھی فروغ دیتا ہے۔ گلاب کے فارمز کی سیر کے لیے بڑی تعداد میں سیاح آتے ہیں تاکہ اس روایتی رسم کو قریب سے دیکھ سکیں اور طائف کے ثقافتی ماحول سے لطف اندوز ہوں۔
