کمسنوں سے جنسی زیادتی اور انسانی اسمگلنگ جیسے سنگین جرائم میں ملوث بدنام زمانہ امریکی مالیاتی شخصیت جیفری ایپسٹین سے متعلق سامنے آنے والی نئی دستاویزات اور ویڈیوز میں ایک متنازع دعویٰ سامنے آیا ہے کہ اس نے پاکستان اور بھارت میں انسداد پولیو مہم کے لیے فنڈنگ فراہم کی تھی۔
برطانوی میڈیا رپورٹس کے مطابق ایک غیر واضح وقت اور مقام پر ریکارڈ کیے گئے انٹرویو میں ایپسٹین نے اپنی دولت کے استعمال سے متعلق گفتگو کے دوران یہ دعوی کیا۔ تاہم اس دعوے کی کسی آزاد ذریعے سے تصدیق نہیں ہو سکی۔
انٹرویو میں ایپسٹین سے اس کے جرائم اور کردار سے متعلق سخت سوالات بھی کیے گئے۔ ایک موقع پر انٹرویو لینے والے نے اس سے پوچھا کہ آیا وہ شیطان ہے، جس پر ایپسٹین نے جواب دیا کہ وہ شیطان نہیں بلکہ اسے شیطان سے ڈر لگتا ہے۔ گفتگو کے دوران اخلاقیات دولت کے ذرائع اور اس کے استعمال پر بھی بحث ہوئی۔
میڈیا رپورٹس میں قیاس ظاہر کیا گیا ہے کہ یہ انٹرویو سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دور میں ان کے سابق چیف اسٹریٹجسٹ اسٹیو بینن نے کیا تھا، تاہم اس کی بھی باضابطہ تصدیق موجود نہیں۔
ایپسٹین نے گفتگو کے دوران یہ مؤقف اختیار کیا کہ اگر اس کی دی گئی رقم سے بچوں کو پولیو جیسی بیماری سے بچایا گیا ہو تو اس کے ذرائع پر سوال اٹھانے کے بجائے نتائج کو دیکھا جانا چاہیے۔ ناقدین کے مطابق یہ ایک اخلاقی طور پر پیچیدہ اور متنازع مؤقف ہے۔
واضح رہے کہ جیفری ایپسٹین 2019 میں جیل میں مردہ پایا گیا تھا اور اس پر کم عمر لڑکیوں کے جنسی استحصال اور انسانی اسمگلنگ جیسے سنگین الزامات تھے، جنہوں نے عالمی سطح پر شدید ردعمل پیدا کیا تھا۔
جیفری ایپسٹین کا دعویٰ: پاکستان اور بھارت میں انسداد پولیو مہم میں فنڈنگ دی
