جنادریہ میں خادم حرمین شریفین کیمل فیسٹیول کے دوران مسک ہیریٹج میوزیم (آسان اور سعودی کیمل ریسنگ فاؤنڈیشن کی مشترکہ نمائش میں سعودی عرب میں انسان اور اونٹ کے قدیم اور گہرے تعلق کو اجاگر کیا گیا۔
نمائش میں اونٹوں سے متعلق نوادرات اور تاریخی اشیاء پیش کی گئیں، جو معاشرتی، ثقافتی اور اقتصادی سرگرمیوں میں اونٹ کے کردار کو نمایاں کرتی ہیں۔ فیسٹیول میں مردوں کے لیے پانچ کلومیٹر کی تین دوڑیں اور خواتین کے لیے دو کلومیٹر کی دو دوڑیں رکھی گئی ہیں۔
آسان کے سی ای او خالد الصقر کے مطابق، اونٹ سعودی معاشرے کی ثقافتی علامت ہے اور نسل در نسل منتقل ہونے والی روایات کی بنیاد ہے۔ سعودی کیمل ریسنگ فیڈریشن کے سی ای او محمد البلاوی نے کہا کہ یہ اشتراک نہ صرف فیسٹیول کی ثقافتی اہمیت بڑھاتا ہے بلکہ سعودی وژن 2030 کے تحت مستقبل کی نسلوں کے لیے ورثے کے تحفظ کا بھی عکاس ہے۔
سنہ 2025 میں ریسوں کے نئے ریکارڈ قائم ہوئے اور اس میں سعودی عرب کے علاوہ یمن متحده عرب امارات عمان اردن بحرین اور ڈنمارک کے شتر سوار بھی شریک ہوئے۔
اونٹ سے قدیم اور گہرا تعلق‘ — سعودی کیمل فیسٹیول میں ثقافتی ورثے کی جھلک
