سعودی عرب کے ہیلتھ ٹیکنالوجی سٹارٹ اپ نے آنکھوں کے امراض کے علاج میں مصنوعی ذہانت کے استعمال کے ساتھ زمین اور خلا میں تحقیق کے نئے امکانات پیدا کر دیے ہیں۔ اس پروجیکٹ کی قیادت سلوى الهزاع اور ان کے بیٹے نائف العبید اللہ کر رہے ہیں، جنہوں نے ڈیووس میں عالمی اقتصادی فورم کے دوران کارنیل یونیورسٹی کے ساتھ خلا میں آنکھ کے مائیکرو بائیوم کا مطالعہ شروع کرنے کا اعلان کیا۔
الهزاع نے کہا کہ خلا میں مائیکرو بائیوم کا مطالعہ نہ صرف خلا میں کام کرنے والے افراد کے لیے فائدہ مند ہوگا بلکہ زمین پر موجود مریضوں کے علاج میں بھی مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔ یہ منصوبہ سعودی سربراہی کنگ عبدالعزیز سٹی اور سعودی سپیس ایجنسی کے تعاون سے چلایا جا رہا ہے۔
ہر وقت کھانے کے بارے میں سوچنا: فوڈ نوائس کیا ہے اور اس سے کیسے نمٹا جائے؟
صحت / HEALTH January 22, 2026
جمع
ریاض سے مدار تک سعودی ماں بیٹے کا آنکھوں کے امراض پر خلا میں تحقیقی سفر
2026
نائف العبیداللہ نے کہا کہ ہیلتھ کیئر سٹارٹ اپ کے ابتدائی چیلنجز اور ضابطوں کے باوجود سعودی عرب میں سرمایہ کاری اور ٹیکنالوجی کی سہولیات نے تحقیق کو ممکن بنایا ہے۔ دونوں بانی ماں بیٹے کے مطابق ان کا مقصد پہلے خدمت اور پھر کاروبار ہے، اور ان کے حل پہلے ہی ہزاروں مریضوں تک اعلی علاج کی سہولت پہنچا رہے ہیں۔
اس سٹارٹ اپ کو حال ہی میں ریسرچ ڈیویلپمنٹ انوویشن اتھارٹی کی طرف سے گرانٹ بھی دی گئی ہے، اور ٹیم میں خواتین کی 36 فیصد شمولیت سعودی عرب میں ٹیکنالوجی اور ہیلتھ کیئر میں خواتین کے کردار کی عکاس ہے۔ نائف نے مزید کہا کہ اس تحقیق سے ہیلتھ کیئر سب کے لیے قابل رسائی بن رہی ہے، نہ کہ صرف مخصوص افراد کے لیے۔
ریاض سے مدار تک: سعودی ماں بیٹے کا آنکھوں کے امراض پر خلا میں تحقیقی سفر
