کعبہ شریف کی شمالی جانب واقع حجرِ اسماعیل، جسے الحطیم بھی کہا جاتا ہے، صدیوں سے خانۂ خدا کی تاریخ اور تعمیراتی مراحل کا زندہ گواہ ہے۔ تاریخی روایات کے مطابق حضرت ابراہیم اور حضرت اسماعیل علیہما السلام نے کعبے کی بنیاد رکھتے وقت اس مقام کو اصل عمارت میں شامل کیا تھا۔
بعد میں قریش اور دیگر حکمرانوں کے دور میں تعمیراتی تبدیلیوں کے باعث یہ مقام کعبے کے اندر یا باہر کئی بار منتقل ہوا۔ آج حجرِ اسماعیل ایک نیم دائرہ نما ساخت کے ساتھ شمالی جانب موجود ہے، جس کی دیواریں 1.3 میٹر بلند اور 30 سینٹی میٹر چوڑی ہیں۔
تاریخی اور مذہبی روایت کے مطابق اس مقام میں نماز پڑھنا کعبے کے اندر نماز کے برابر ہے۔ سعودی حکومت نے حجرِ اسماعیل کی حفاظت اور دیکھ بھال کو مسجد الحرام کے جامع نظام کا حصہ بنا دیا ہے، جس میں ماربل کی بحالی، دیواروں اور پتھروں کی حفاظت اور مسجد کی وسعت کے ساتھ ہم آہنگی یقینی بنائی جاتی ہے۔
حجرِ اسماعیل آج نہ صرف اپنی تعمیراتی اہمیت بلکہ ایک مذہبی اور تاریخی علامت کے طور پر کعبہ شریف کے تقدس اور صدیوں پر محیط ورثے کا محافظ ہے۔
