امریکا اور اسرائیل کی مشترکہ کارروائیوں کے بعد یہ دعویٰ کیا گیا ہے کہ ایران کی میزائل اور ڈرون صلاحیت کو بڑا نقصان پہنچا ہے، تاہم خطے میں ایرانی حملے مکمل طور پر بند نہیں ہوئے۔ وائٹ ہاؤس کے مطابق ایران کی بیلسٹک میزائل صلاحیت اور فضائی طاقت کو شدید دھچکا لگا ہے، جبکہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی کہا کہ ایران کی ڈرون تیار کرنے کی صلاحیت کو بڑی حد تک تباہ کر دیا گیا ہے۔
اس کے باوجود حالیہ دنوں میں قطر، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور بحرین میں میزائل خطرات اور حملوں کی خبریں سامنے آئی ہیں۔ ماہرین کے مطابق ایران کے حملوں کی شدت میں واضح کمی آئی ہے، تاہم وہ محدود تعداد میں مسلسل میزائل اور ڈرون استعمال کر رہا ہے۔
دفاعی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ایران کے پاس اب بھی میزائلوں کا کچھ ذخیرہ موجود ہے اور وہ موبائل لانچرز اور خفیہ مقامات سے حملے کر رہا ہے، جس سے انہیں مکمل طور پر ختم کرنا مشکل ہے۔ ماہرین کے مطابق ایران اب طویل دباؤ برقرار رکھنے کی حکمت عملی اپنا رہا ہے، جس کے اثرات عالمی سطح پر بھی محسوس کیے جا رہے ہیں، خاص طور پر تیل کی قیمتوں اور خلیجی خطے کی سیکیورٹی پر۔
