حرمین شریفین میں رمضان المبارک کے آخری عشرے کی 27ویں شب لاکھوں فرزندان اسلام نے تراویح، نماز تہجد اور دعا میں شرکت کی، اور روح پرور مناظر دیکھنے کو ملے۔
سعودی پریس ایجنسی کے مطابق مسجد الحرام اور مسجد نبوی میں بڑی تعداد میں زائرین، سعودی شہری اور مقیم غیر ملکی پہلے ہی پہنچ چکے تھے۔ تمام منزلیں، دالان، تہہ خانے، چھتیں، اطراف کی سڑکیں، تجارتی مراکز اور ہوٹلوں کی راہداریاں نمازیوں سے بھرپور تھیں۔
ادارہ امور حرمین کی جانب سے زائرین کی سہولت کے لیے مثالی انتظامات کیے گئے۔ 27 ویں شب کے عظیم الشان اجتماع کے لیے اضافی عملے، سکاؤٹس اور رضاکار بھی تعینات تھے تاکہ نمازیوں اور زائرین کی آمد و رفت کو منظم بنایا جا سکے۔
قالینوں کی صفائی اور معطر کرنے کے ساتھ اضافی مصلوں کی فراہمی یقینی بنائی گئی۔ مسجد الحرام اور مسجد نبوی کے بیرونی صحنوں اور چھتوں پر بھی خصوصی انتظامات کیے گئے تھے۔ حرمین میں صفائی اور آب زم زم کی مستقل فراہمی کو یقینی بنایا گیا، جبکہ بجلی کی سپلائی کے لیے بیک اپ سسٹم تیار تھا اور ایئر کنڈیشنگ، لائٹنگ اور ساؤنڈ سسٹم کی کارکردگی بھی بڑھائی گئی۔
اس سال انتظامیہ نے خصوصی گراؤنڈ یونٹ متعارف کرایا، جس کے تحت زائرین خدمت سینٹر کی ٹیموں کو فوری ترجمہ کے لیے ڈیجیٹل ڈیوائسز فراہم کی گئیں تاکہ مختلف ممالک سے آنے والے زائرین کی مشکلات کا فوری حل کیا جا سکے۔ گراؤنڈ یونٹس مسجد الحرام کے اندر، بیرونی صحنوں اور چھتوں پر تعینات کیے گئے تاکہ زیادہ سے زیادہ زائرین کی بروقت خدمت ممکن ہو۔
مزید برآں، ازدحام کو کنٹرول کرنے کے لیے مختلف مقامات پر ڈیجیٹل سکرینز نصب کی گئیں، جن کے ذریعے صحن مطاف اور مسجد الحرام کی اندرونی صورتحال کی فوری معلومات حاصل کی جا سکتی تھیں۔
