ایران کی قیادت نے جنگ بندی کے بعد اپنی افواج کو کارروائیاں روکنے کی ہدایت دیتے ہوئے واضح کیا ہے کہ یہ مستقل امن نہیں بلکہ ایک عارضی وقفہ ہے۔
سرکاری بیان میں کہا گیا کہ تمام فوجی یونٹس فوری طور پر جنگ بندی پر عمل کریں، تاہم کسی بھی ممکنہ خطرے کے پیش نظر مکمل الرٹ رہیں۔ ایرانی حکام نے خبردار کیا کہ دشمن کی کسی بھی حرکت کا بھرپور جواب دیا جائے گا۔
ایران کی سپریم نیشنل سیکیورٹی کونسل کے مطابق مذاکرات 10 اپریل سے اسلام آباد میں شروع ہوں گے، جو ابتدائی طور پر دو ہفتے جاری رہیں گے۔ کامیاب مذاکرات کو بڑی کامیابی قرار دیا جائے گا، بصورت دیگر صورتحال دوبارہ کشیدہ ہو سکتی ہے۔
دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ جنگ بندی پاکستان کی تجویز پر طے پائی اور امریکا اپنے اہداف حاصل کر چکا ہے، جبکہ ایران کے ساتھ مستقل امن معاہدے کی امید ظاہر کی جا رہی ہے۔
