سعودی ہنرکارہ ام فہد نے 13 سال کی عمر سے والدہ کے ساتھ ’سدو‘ کی دستکاری میں حصہ لینا شروع کیا۔ وہ ہینڈ بیگز، بیلٹ اور دیوار سجاوٹی اشیا تیار کرتی ہیں، جن میں بھیڑوں کی اون کو رنگین دھاگوں میں بدل کر روایتی سعودی ڈیزائن تخلیق کیا جاتا ہے۔
ام فہد کا کہنا ہے کہ ’سدو‘ محض سجاوٹ نہیں بلکہ سعودی گھرانوں کی شناخت اور ثقافت کی علامت ہے۔ ان کی مہارت نے انہیں ’سوق عکاظ‘ میں پہلی اور دوسری پوزیشن دلوائی اور مملکت کی نمائندگی کے لیے اٹلی، دبئی ایکسپو، شیخ زاید فیسٹیول اور جاپان ایکسپو تک پہنچایا۔
ام فہد نوجوان لڑکیوں کو نصیحت کرتی ہیں کہ ہنر کو اپنائیں اور خود انحصاری اختیار کریں، کیونکہ مہارت ہمیشہ ایک قیمتی خزانہ رہتی ہے۔ ان کا سفر ’سدو‘ کے دھاگوں کو عالمی زبان میں بدلنے اور سعودی ثقافت کو دنیا تک پہنچانے کی ایک زندہ مثال ہے۔
